تازہ ترین
• جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ایم ایس او آف انڈیا کا اعلیٰ سطحی وفد، اکابر علماء سے ملاقاتیں، تعلیمی روابط اور غازی سیمینار پر گفتگو • ایم ایس او آف انڈیا کے وفد کی خانقاہِ کاملیہ ولیدپور میں حاضری • عرسِ شہنشاہ ناسک کی نسبت سے نوری مشن کا فری میڈیکل کیمپ • مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل • جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں ایم ایس او وفد کی علمی و فکری نشست، ممتاز الفقہاء مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری نے تنظیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں • جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں ایم ایس او وفد کی اساتذۂ کرام سے ملاقات، مدارس کے طلبہ کو اعلیٰ و عصری تعلیم سے جوڑنے پر زور • مدرسہ اور یونیورسٹی کے درمیان مضبوط تعلیمی روابط کے فروغ کیلئے ایم ایس او آف انڈیا کا الجامعۃ الاسلامیہ روناہی کا دورہ • مہندوپار میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ، رسمِ دستارِ افتاء و تحقیق اور تقریبِ شادی خانہ آبادی روحانی و علمی شان و شوکت کے ساتھ اختتام پذیر • جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال • وقف ایکٹ نافذ رہے گا، لیکن سپریم کورٹ نے مسلم تعریف والی شق پر پابندی لگا دی ہے

بارہ بنکی: ماسٹر صابر علی ہمارے درمیان علمی نقوش چھوڑ گئے: الحاج عرفان انصاری

📅 19-09-2023 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
بارہ بنکی

<p>سعادتگنج،بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری)موت کا ایک دن مقرر ہے۔ یقیناً ہرشخص کو اس دار فانی سے جانا ہے۔ کتنے ہی دوست احباب ہماری آنکھوں کے سامنے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ لوگ جاتے ہوئے ہمارے دلوں میں یہ احساس زندہ کرجاتے ہیں کہ آج ہماری تو کل تمہاری باری ہے۔ گزشتہ روز قصبہ انوپ گنج و سعادت گنج کے فیضان العلوم انٹر کالج کے سابق استاد ماسٹرصابرعلی صدیقی محمودآبادی کا انتقال پُرملال کسی سانحہ سے کم نہیں ہے۔ ان کی عمر تقریباً 68 سال تھی۔ ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے فیضان العلوم انٹر کالج میں سولہ سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کے انتقال پر مدرسہ اسلامیہ فیضان العلوم انوپ گنج میں ایک تعزیتی جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں فیضان العلوم انٹر کالج کے مینیجر الحاج سیٹھ محمدعرفان انصاری نے کہا کہ مرحوم ماسٹر صاحب ہمارے بھی استاد ہیں۔ وہ اب ہمارے درمیان تو نہیں ہیں لیکن وہ اپنے علمی و تدریسی نقوش ہمارے درمیان چھوڑ گئے ہیں۔ انہیں تمام علوم میں عبور حاصل تھا۔ وہ بچوں کی تربیت بہترین انداز میں کرتے تھے۔ اسکول کے خارج اوقات میں بھی بچوں کی مسلسل خبرگیری کرتے تھے۔ انہوں نے بچوں کو سلام کرنے اور نماز پڑھنے کی عادت ڈلوانے کا بہترین طریقہ اپنایا ہوا تھا۔ گاؤں کی ہر مسجد میں ایک مانیٹرمتعین کر رکھا تھا جو ان کے پاس پڑھنے والے تمام بچوں کی نمازوں کی حاضری لگایا کرتا تھا کہ کس بچے نے نماز پڑھی اورکس نے نہیں پڑھی۔ جوشخص نماز کی پابندی نہیں کرتا تھا اس سے بہت سخت باز پرس کیا کرتے تھے۔ ان کے رعب کا یہ عالم تھا کہ کوئی بچہ ان کے سامنے جھوٹ بولنے کی ہمت نہیں کرپاتا تھا۔ کیا بہترین استاد تھے۔ جو اس دنیا سے چلے گئے۔ آج بھی جب کبھی ہم لوگوں میں اپنے تعلیمی زمانے کی باتیں ہوتی ہیں تو مرحوم ماسٹر صاحب کا تذکرہ کئے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی۔ الحاج ماسٹرانتظار احمد نے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اچھے اور نیک انسان تھے۔ ان کے اخلاق سے ہرشخص متاثر ہوجایا کرتا تھا۔ میں نے انہیں حد درجہ حلیم طبع ، عاجز و منکسر ، ادب و احترام کا پیکر اور اعلیٰ و ارفع خوبیوں کا مالک پایا۔ ہر ایک کے ساتھ پیار ، خلوص اور محبت سے پیش آتے تھے۔ وہ انتہائی نرم مزاج تھے۔ لیکن تدریسی معاملے میں سخت اور اصولوں کے بہت پابند انسان تھے۔ مرحوم کا جانا بڑا اندوہناک حادثہ ہے۔ وہ فیضان العلوم میں استادالاساتذہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا وجود ہمارے لیے نعمت عظمیٰ تھا۔ وہ علم و ادب کے باب میں تحریک کی حیثیت رکھتے تھے۔ اردو زبان سے ان کا بڑا گہرا ربط تھا۔ وہ خود اردو بولتے تھے اور طلبہ کو بھی آپس میں اردو ہی میں بات چیت کرنے پر زور دیا کرتے تھے۔ ان کی حیات کے نقوش تا دیر تابندہ رہیں گے۔ سعادت گنج کے ماسٹر اسلم صدیقی نے کہا کہ مرحوم کافی خاموش مزاج ، نرم طبیعت اور اچھے اخلاق کے حامل اور ہمہ وقت طلبہ کی فکر میں ڈوبے رہتے تھے۔ انکی خاموش گفتگو ہوا کرتی تھی۔ وہ میرے لیے نہایت قابل احترام شخصیت تھے۔ آج ان کی جدائی پر دل رنجیدہ ہے۔ اس موقع پرمنشی محمدرفیع فیضانی ، مینجر سیٹھ محمدارشاد انصاری ، محمدانوار فیضانی ، ماسٹرمحمد رفیق ، ماسٹرمحفوظ الرحمٰن ، الحاج ماسٹرمحمدالیاس ، ماسٹرمحمدعتیق ، ماسٹرمحمدراشد اور ماسٹرمحمدعرفان کی موجودگی قابل ذکر ہے۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

👑 Chief Reporter ★★★★★
ا

ابوشحمہ انصاری

📍 Barabanki

📰 597 پوسٹ👁 33 قارئین📊 0.1 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

آئی آئی ایم اسکور لائبریری کا پروفیسر منتظر قائمی کے ہاتھوں افتتاح

ہندوستانی اور ازبک زبانوں میں ترجمے کا بین ثقافتی رشتہ پر ڈاکٹر نیلو فر خود جائیوا کا خصوصی خطاب

بہرائچ جیسے واقعات ہندوستان کے تانے بانے کو نقصان پہنچاتتے ہیں

مقبول ترین پوسٹس

جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال

👁 8 ویوز

دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی

👁 6 ویوز

بھگوا لو ٹریپ کا تازہ واقعہ: اپنی مسلم گرل فرینڈ کو مار کر پندرہ فٹ نیچے زمین میں گاڑ دیا

👁 5 ویوز

مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل

👁 4 ویوز

لاک ڈاؤن کے سبب ہر شعبہ متاثر، پولیس انتظامیہ کی سختی سے پھیری والے بے حال

👁 3 ویوز