تازہ ترین
• جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ایم ایس او آف انڈیا کا اعلیٰ سطحی وفد، اکابر علماء سے ملاقاتیں، تعلیمی روابط اور غازی سیمینار پر گفتگو • ایم ایس او آف انڈیا کے وفد کی خانقاہِ کاملیہ ولیدپور میں حاضری • عرسِ شہنشاہ ناسک کی نسبت سے نوری مشن کا فری میڈیکل کیمپ • مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل • جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں ایم ایس او وفد کی علمی و فکری نشست، ممتاز الفقہاء مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری نے تنظیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں • جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں ایم ایس او وفد کی اساتذۂ کرام سے ملاقات، مدارس کے طلبہ کو اعلیٰ و عصری تعلیم سے جوڑنے پر زور • مدرسہ اور یونیورسٹی کے درمیان مضبوط تعلیمی روابط کے فروغ کیلئے ایم ایس او آف انڈیا کا الجامعۃ الاسلامیہ روناہی کا دورہ • مہندوپار میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ، رسمِ دستارِ افتاء و تحقیق اور تقریبِ شادی خانہ آبادی روحانی و علمی شان و شوکت کے ساتھ اختتام پذیر • جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال • وقف ایکٹ نافذ رہے گا، لیکن سپریم کورٹ نے مسلم تعریف والی شق پر پابندی لگا دی ہے

بجٹ: حکومت کے سامنے کئی ایک چیلنج، کیا بڑھا دی جائے گی عام آدمی کے لیے ٹیکس کی شرح

📅 31-01-2021 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
قومی خبریں

<p>دہلی: 31 جنوری (ایجنسی) عالمی وبا کووڈ19 کے درمیان مالی سال22 -2021 کے تاریخی بجٹ میں حکومت کے سامنے معیشت کو فوری طور پر فروغ دینے کے ساتھ ہی طویل مستقبل کے لیے مضبوطی عطا کرنے کا چیلنج ہوگا اور وزیر مالیات نرملا سیتا رمن ان دونوں کے درمیان کتنا توازن رکھ پاتی ہیں یہ دیکھنا اہم ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وبا کا سب سے بڑا دور ختم ہوچکا ہے اور معیشت اب پٹری پر آرہی ہے۔ پارلیمنٹ میں گزشتہ ہفتے پیش ہوئے اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی۔ڈی۔پی۔) میں 7.7 فی صد کی گراوٹ رہے گی جبکہ اگلے مالی سال میں معیشت تیزی سے واپسی کرےگی اور جی۔ڈی۔پی۔ میں 11 فی صد کے اضافہ کا اندازہ ہے۔
گزشتہ ماہ بالواسطہ ٹیکس وصولی میں اضافے کے باوجود موجودہ مالی سال ٹیکس کی وصولی میں کمی طے ہے۔ حکومت اپنی سرمایہ کاری کا حدف پورا کرنے کے آس پاس بھی نہیں ہے۔ سال 21۔2020 کے بجٹ میں 2.14 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا حدف رکھا گیا تھا جبکہ 19499 کروڑ روپے کی ہی سرمایہ کاری ہوپائی۔
ایسی صورتحال میں حکومت کے پاس محصول کے اضافے کے لیے ٹیکس اور ڈیوٹی میں اضافہ کرنے کا واحد حل ہے۔ دوسری طرف، اس سے کاروبار اور مانگ کو فروغ دینے کی بھی اس سے توقع کی جارہی ہے۔ پیر کو پیش ہونے والے بجٹ میں عام لوگوں اور چھوٹے ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافے کا امکان نہیں ہے، لیکن امیروں پر ٹیکس بڑھایا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی نئے چارجز عائد کرکے اور موجودہ چارجز میں اضافہ کرکے محصولات کی وصولی میں اضافے کے اقدامات بھی اٹھائے جاسکتے ہیں۔ بجٹ کے علاوہ بھی حکومت کو اشیاء اور خدمات کے ٹیکس (جی۔ایس۔ٹی۔) میں تبدیلی کا آپشن ہوگا۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

🎖️ Senior Editor ★★★★★
H

HamariAawaz

📍 Barabanki

📰 1896 پوسٹ👁 536 قارئین📊 0.3 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

بھارت میں 93 سال بعد بھی 226 کروڑ چھوٹی بچیوں کی شادی ہوئی

ایم۔ایس۔او۔ کا "آزاد ہند فوج میں مسلمانوں کا کردار" کے موضوع پر ویبنار کا انعقاد

ترنگے کی بےحرمتی ملک کے لیے افسوسناک: مودی

مقبول ترین پوسٹس

جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال

👁 8 ویوز

دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی

👁 6 ویوز

بھگوا لو ٹریپ کا تازہ واقعہ: اپنی مسلم گرل فرینڈ کو مار کر پندرہ فٹ نیچے زمین میں گاڑ دیا

👁 5 ویوز

نم ناک آنکھوں سے حاجی نسیم رضا قادری ضیائی سپرد خاک، حضور محدث کبیر نے پڑھائی نماز جنازہ

👁 4 ویوز

مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل

👁 4 ویوز