تازہ ترین
• جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ایم ایس او آف انڈیا کا اعلیٰ سطحی وفد، اکابر علماء سے ملاقاتیں، تعلیمی روابط اور غازی سیمینار پر گفتگو • ایم ایس او آف انڈیا کے وفد کی خانقاہِ کاملیہ ولیدپور میں حاضری • عرسِ شہنشاہ ناسک کی نسبت سے نوری مشن کا فری میڈیکل کیمپ • مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل • جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں ایم ایس او وفد کی علمی و فکری نشست، ممتاز الفقہاء مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری نے تنظیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں • جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں ایم ایس او وفد کی اساتذۂ کرام سے ملاقات، مدارس کے طلبہ کو اعلیٰ و عصری تعلیم سے جوڑنے پر زور • مدرسہ اور یونیورسٹی کے درمیان مضبوط تعلیمی روابط کے فروغ کیلئے ایم ایس او آف انڈیا کا الجامعۃ الاسلامیہ روناہی کا دورہ • مہندوپار میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ، رسمِ دستارِ افتاء و تحقیق اور تقریبِ شادی خانہ آبادی روحانی و علمی شان و شوکت کے ساتھ اختتام پذیر • جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال • وقف ایکٹ نافذ رہے گا، لیکن سپریم کورٹ نے مسلم تعریف والی شق پر پابندی لگا دی ہے

ہائی کورٹ نے بی۔جے۔پی۔ کو دیا جھٹکا، پارٹی نشان پر اٹھایا سوال، کہا قومی پھول(کمل)کا استعمال کیسے؟

📅 11-12-2020 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
پریاگ راج

<p>پریاگ راج ہماری آواز/11جنوری
ملک میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP) گذشتہ 40 سالوں سےجس علامت (کمل کا پھول) کو پارٹی کا نشان بنا کر ملک بھر میں انتخابات لڑ رہی ہے اب الہ آباد ہائی کورٹ نےاس کے استعمال پر سوال اٹھایا ہے۔ دراصل کمل کے پھول کو سیاسی پارٹی کے نشان کے بطور استعمال ہونے پر کچھ دنوں پہلے ہی عوامی مفاداتی مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ جس میں بی۔جے۔پی۔ پر قومی پھول کی علامت کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اسی معاملے پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ انتخابی نشان کے طور پر کسی بھی سیاسی پارٹی کو قومی پھول (کمل) کیسے دیا گیا؟ عدالت نے قومی پھول کو سیاسی پارٹی کی علامت کے طور پر استعمال کر رہے بی۔جے۔پی۔ پر روک لگانے کو لے کے ای۔ سی۔ سے جواب طلب کیا۔ اب اس معاملے میں اگلی سماعت 12 جنوری کو ہونی ہے۔ ہائی کورٹ میں یہ معاملہ بھی اٹھا کہ سیاسی جماعتوں کو علامت (لوگو) کی حیثیت سے انتخابی نشان کو فروغ دینے کی اجازت کسی آزاد امیدوار کے ساتھ امتیازی سلوک ہوگی۔
گورکھپور کی سماج وادی پارٹی کے رہنما کالی شنکر نے الہ آباد ہائی کورٹ میں یہ اپیل دائر کی تھی۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو انتخابی نشان قومی علامتوں کے استعمال کرنے کا حق نہیں ہے۔ انتخابی نشان انتخاب تک ہی محدود ہے۔
ہائی کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت چیف جسٹس گووند ماتھور اور جسٹس پیوش اگروال کے بنچ نے کی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے اس پر جواب دینے کے لیے وقت مانگا ہے۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

🎖️ Senior Editor ★★★★★
H

HamariAawaz

📍 Barabanki

📰 1896 پوسٹ👁 116 قارئین📊 0.1 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

مدرسہ غوثیہ زینت العلوم میں تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا یوم جمہوریہ کا جشن

مدرسہ غوثیہ زینت العلوم دہیاواں بازار پریاگ راج میں میں کی گئی شجر کاری

الحاج محمد سعید نوری کی ایماء پر الہ آباد میں ضرورت مندوں کے درمیان گرم کپڑا تقسیم کیا گیا

مقبول ترین پوسٹس

جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال

👁 8 ویوز

دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی

👁 5 ویوز

بھگوا لو ٹریپ کا تازہ واقعہ: اپنی مسلم گرل فرینڈ کو مار کر پندرہ فٹ نیچے زمین میں گاڑ دیا

👁 4 ویوز

مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل

👁 4 ویوز

نم ناک آنکھوں سے حاجی نسیم رضا قادری ضیائی سپرد خاک، حضور محدث کبیر نے پڑھائی نماز جنازہ

👁 3 ویوز