تازہ ترین
• جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ایم ایس او آف انڈیا کا اعلیٰ سطحی وفد، اکابر علماء سے ملاقاتیں، تعلیمی روابط اور غازی سیمینار پر گفتگو • ایم ایس او آف انڈیا کے وفد کی خانقاہِ کاملیہ ولیدپور میں حاضری • عرسِ شہنشاہ ناسک کی نسبت سے نوری مشن کا فری میڈیکل کیمپ • مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل • جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں ایم ایس او وفد کی علمی و فکری نشست، ممتاز الفقہاء مفتی ضیاء المصطفیٰ قادری نے تنظیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں فرمائیں • جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں ایم ایس او وفد کی اساتذۂ کرام سے ملاقات، مدارس کے طلبہ کو اعلیٰ و عصری تعلیم سے جوڑنے پر زور • مدرسہ اور یونیورسٹی کے درمیان مضبوط تعلیمی روابط کے فروغ کیلئے ایم ایس او آف انڈیا کا الجامعۃ الاسلامیہ روناہی کا دورہ • مہندوپار میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ، رسمِ دستارِ افتاء و تحقیق اور تقریبِ شادی خانہ آبادی روحانی و علمی شان و شوکت کے ساتھ اختتام پذیر • جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال • وقف ایکٹ نافذ رہے گا، لیکن سپریم کورٹ نے مسلم تعریف والی شق پر پابندی لگا دی ہے

معرکۂ کربلا ظلم و جبر کے خلاف اعلان جنگ! جاوید بھارتی

📅 30-07-2022 👁 1 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
بلیا

<p>بلیا: 30 جولائی، ہماری آواز(راست) سانحہ کربلا کبھی بھلایا نہیں جاسکتا ایک طرف نواسہ رسول امام حسین کا سر قلم کرکے اور آل رسول پر ظلم ڈھاکر دنیا میں دھاگ جمانے کا خواب دیکھنے والوں کا گروہ تھا تو دوسری طرف سر کٹا کر اسلام کی حقانیت کا پرچم بلند کرنے والوں کا پاک گروہ تھا ایک کے حصے میں اللہ کی رحمت آئی اور عالم اسلام کی عقیدت و محبت آئی اور دوسرے کی حصے میں لعنت آئی نتیجہ یہ ہوا کہ آج دنیا بھر میں ایسے لوگ ملیں گے جن کے ناموں میں حسین لگا ہے لیکن آج کوئی یزید نام کا آدمی نہیں ملتا-
مشہور قلمکار جاوید اختر بھارتی نے مذکورہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام کے مہینے سے ہوتا ہے اور اختتام ذوالحجۃ کے مہینے سے ہوتا ہے یعنی قربانی سے شروع اور قربانی پہ ختم اب جسے آل ابراہیم اور آل رسول کامطلب سمجھنا ہے وہ آتش نمرود سے لے کر واقعات کربلا تک غور کرے تو سب کچھ سمجھ میں آجائے گا کیونکہ میدان کربلا میں نمرودی تیور سے لے کر ایوبی صبر تک کا منظر نظر آئے گا جتنے بھی انبیاء و صحابہ کا ظالموں سے ٹکراؤ ہوا ہے تو ظالم کی نیت کا دارومدار دنیاوی مقاصد پر تھا اور انبیاء و صحابہ کا مقصد دین کی سربلندی تھا اور اسی دین کی اصلیت کو برقرار رکھنے کی خاطر امام عالی مقام نے اپنا اور کنبے کا سر کٹا دیا ورنہ معاملہ تو اتنا ہی تھا کہ بیعت کرو جان بچاؤ مگر نانا کی گود میں پلنے والے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانتے تھے کہ ہاتھ دے کر سر اور جان بچانے کا مطلب کہ نانا کا دین اصلی شکل میں موجود نہیں رہے گا اس لئے سر دے کر ہاتھ بچانا ضروری ہے کیونکہ ہمارا ہاتھ ایک مہر و سند ہے اور اس مہر و سند کو بچانے میں ہی دین کی بھلائی ہے نتیجہ یہ ہوا کہ سر کٹنے کے بعد بھی نیزے پر بلند ہوکر دین اسلام کی صداقت بلند کرتا رہا اور ظلم و جبر و دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کرتا رہا یزید بظاہر بھلے ہی جنگ جیتا ہو مگر اس کے ناپاک عزائم و ارادے اور مقاصد و منصوبے سب موت کے گھاٹ اتر گئے آج اس کے لئے کچھ باقی ہے تو صرف لعنت باقی ہے۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

🎖️ Senior Editor ★★★★★
H

HamariAawaz

📍 Barabanki

📰 1896 پوسٹ👁 358 قارئین📊 0.2 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

کرکٹ: بلیا نے بیتیا کو دی کراری شکست اور خطاب پر جمایا قیضہ

مقبول ترین پوسٹس

جامعہ اشرفیہ سے غم ناک خبر، مولانا مبارک حسین مصباحی کا انتقال

👁 8 ویوز

دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی

👁 6 ویوز

بھگوا لو ٹریپ کا تازہ واقعہ: اپنی مسلم گرل فرینڈ کو مار کر پندرہ فٹ نیچے زمین میں گاڑ دیا

👁 5 ویوز

نم ناک آنکھوں سے حاجی نسیم رضا قادری ضیائی سپرد خاک، حضور محدث کبیر نے پڑھائی نماز جنازہ

👁 4 ویوز

مولانا صدام حسین برکاتی سڑک حادثے میں شدید زخمی، حالت تشویشناک - دعا کی اپیل

👁 4 ویوز